موچی دروازہ پاکستان دے شہر لاہور دے 13 دروازیاں چوں اک دروازہ اے۔ لہور شہر دا موچی دروازہ شہر دے دکھن ول واقع اے۔ اس دے سجے پاسے اکبری دروازہ تے کبھے پاسے شاہ عالمی دروازہ اے۔ اس دروازے دی تعمیر وی اکبر دے راج ویلے چ ہوئی۔

ناں دی وجہ

سودھو

موچی دروازے دا پرانا ناں موتی دروازہ سی۔ اس ناں دی وجہ ایہ دسی جاندا اے کہ اکبری ویلے چ موتی رام جمعدار جو اکبر دا ملازم سی، ساری عمر اس دروازے دی حفاظت اتے تعینات رہیا ۔ موتی رام بوہت ملنسار تے خوش اخلاق انسان سی۔ اپنے حسن اخلاق پاروں اوہ ہر خاص تے عام چ مقبول سی ۔ اس دی زندگی چ جدوں بیرونی حملہ آوراں نے لاہور دا رخ کیتا تاں اس نے جان دی پرواہ نہ کردے ہوئے شہر دی حفاظت کیتی تے اپنی حکمت عملی تے ذہانت نال حملہ آوراں نو ںدروازے چ داخل نہ ہون دتا۔اسی دے ناں دی نسبت توں ایہ دروازہ موتی دروازہ دے ناں نال مشہور ہو گیا

تریخ

سودھو

۔کنہیا لال موچی دروازے کے بارے میں ٴتاریخ لاہورٴ میں بیان کرتے ہیں کہ ٴٴیہ دورازہ موتی رام جمعدار ملازم اکبری کے نام سے موسوم ہے جو تمام عمر اس دروازے کی حفاظت پر تعینات رہا تھا۔ مدت العمر کی ملازمت کے سبب سے اس دروازے نے بھی موتی کے ساتھ پوری نسبت پیدا کر لی اور ہمیشہ کے لئے موتی بن گیا۔ سکھی عہد میں موتی کے نام سے بدل کر موچی مشہور ہوا۔ اب بھی موچی دروازہ مشہور ہے۔ اس دروازے کے شرقی دالان میں ایک قبر چھوٹی سی زمانہ سلف کی پختہ بنی ہوئی موجود ہے۔ لوگ مشہور کرتے ہیں کہ یہاں کسی شہید کا سر مدفون ہےٴٴ

بعض مورخین کی رائے ہے کہ اس دروازے کو سکھ عہد میں مورچی دروازے کا نام دیا گیا تھا۔ جس کی بنیادی وجہ اس اندرون موچی دروازے میں ٴمورچیوںٴ کا قیام بتائی جاتی ہے۔ اوائل مغل عہد میں یہاں مغل فوج کے پیادے قیام پذیر تھے اور اسی نسبت سے اس علاقے کے مختلف محلوں اور گلیوں کی تقسیم کی گئی جن میں محلہ تیرا گراں، محلہ کماںگراں، محلہ لٹھ ماراں، محلہ چابک سواراں، محلہ بندوق سازاں اور حماماں والی گلی قابل ذکر ہیں۔ کی آج اتنی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی یہ دروازہ سیاسی اہمیت کا حامل ہے اور ملکی سیاسی تاریخ کا اہم مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ یہ دروازہ سیاسی حوالے سے ملکی تاریخ کا اہم باب بن گیا ہے اس لئے جمہوری ادوار میں سیاست دانوں کے عظیم الشان جلسے اور سیاسی احتجاج کی بڑی بڑی تحریک یہیں سے جنم لیتی رہی ہیں۔ موچی باغ تحریک پاکستان سے لے کر موجودہ تک سیاسی منظر نامے کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس تاریخی میدان میں برصغیر پاک ہند کے جن نامور سیاستدانوں اور رہنمائوں نے خطاب کیا ان میں علامہ اقبال، قائداعظم محمد علی جناح، جواہر لال نہرو، خان عبدالغفار خان، حسین شہید سرہوردھی ، لیاقت علی خان، ذولفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو،نواز شریف، شہباز شریف سمیت تمام اہم سیاست دان شامل ہیں۔ 80ئ کی دہائی تک کسی بھی سیاست دان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ موچی باغ میں عوامی مجمع کو دیکھ کر لگایا جاتا تھا۔ آج موچی باغ کے گرد کار پارکنگ اور میدان میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر اور دھوبیوں کے ناجائز قبصے سے اس کا حسن مانند پڑ رہا ہے اور سیاسی جلسے بھی شاز و نادر ہی منعقد ہوتے ہیں۔ انگریز دور حکومت میں جب فصیل شہر کی بلندی کم کے چند فٹ کی دیوار بنا دی گئی تو اس دروازے کے دونوں برجوں کو گرا کر اس کی اینٹیں فروخت کر دی گئیں۔ قرین قیاس تھا کہ انگریزی عہد میں اس دروازے کی بھی تعمیر نو ہوگی مگر ایسا نہ ہو سکا۔ موچی دروازے کی از سر نو تعمیر نہیں ہو سکی اس لئے آج موچی دروازے کی عمارت کے آثار موجود نہیں ہیں نہ ہی اس دروازے کی عمارت کے بارے میں پرانی کتابوںمیں حوالہ جات ملتے ہیں۔ لہذا اس کے فن تعمیر اور جمالیات کے بارے میں مورخ کسی قسم کی رائے کے اظہار سے قاصر ہیں۔ قیاس ہے کہ اس دروازے کی عمارت بھی لاہور کے بقیہ قدیم دروازوں کے فن تعمیر سے مماثلت رکھتا ہوگا۔آج موچی دروازہ کے بائیں ہاتھ پر تھانہ موچی گیٹ کی نو تعمیر کثیر منزلہ عمارت موجود ہے اور بائیں جانب تھانہ رنگ محل کی عمارت ہے۔ دروازے کے بالکل ساتھ پیر مرادیہ کی قبر اور سبیل ہے۔ قبر پر دو قدیمی گھنے درختوں کا سایہ کیا ہوا ہے۔ تھانے کی عمارت سے چند قدم آگے بائیں جانب قدیم لال حویلی کی عمارت ہے۔

موچی دروازے کا علاقہ پتنگ سازی، خشک میوہ جات ، مٹھائیوں اور آتشباری کے سامان کا مرکز رہا ہے۔ بسنت پر پابندی عائد ہونے کے بعد اب اس علاقے میں پتنگ سازی کا کاروبار ختم ہو چکا ہے۔ جبکہ آتشبازی کے سامان کی چند ایک دوکانیں باقی ہیں۔ البتہ موچی دروازے کا بازار اب بھی بہت بارونق ہے۔ مٹھائیوں اور کھانے پینے کے حوالے سے یہ علاقہ اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ بہترین فالودہ، لسی، باداموں والی برقی، مچھلی اور سیخ کبابوں اس علاقے میں دستیاب ہیں۔ موچی دروازے کی وجہ شہرت مسجد محمد صالح کمبوہ بھی ہے۔ جونہی موچی دروازے کے اندر داخل ہوں تو چند قدم چلنے کے بعد بالکل سامنے تین گنبدوں والی یہ مسجد آنے والوں کو توجہ اپنی جانب مبذول کرتی ہے۔ یہ مسجد سڑک سے ایک منزل بلندی پر تعمیر کی گئی تھی۔ اس قدیم مسجد کا شمار اپنے نقش و نگار اور خوبصورتی کے باعث مغلیہ دور کی اہم عمارات میں کیا جاتا ہے۔ اکثر آیات قرانی اور احادیث و عبارات فارسی اس کی دیواروں پر نقش ہیں۔اس مسجد کی تعمیر منشی محمد صالح کمبوہ دیوان صوبہ پنجاب نے کروائی تھی۔ مسجد کی تعمیر 1659ء میں مکمل ہوئی تھی۔ اس مسجد کی کرسی اونچی ہے اور نیچے دوکانیں ہیں۔ آج چار صدیاں گزرنے کے بعد بازار کی زمین اونچی ہوگئی ہے اور دوکانوں نے نصف سے زائد زمین میں دھنس کر تہہ خانوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دروازہ بھی چھوٹا سا رہ گیا ہے اور مسجد کی کرسی کی بلندی چار کی برابر رہ گئی ہے۔ اس مسجد کے مشرق میں منشی محمد صالح کمبوہ نے اپنی حویلی بھی بنوائی تھی۔ منشی محمد صالح کمبوہ نے شاہ جہان دور کی تاریخ عمل صالح تحریر کی تھی۔ مسجد محمد صالح کمبوہ کے ساتھ ہی اونچی مسجد بلال ہے جہاں بچوں کو قرآن مجید ناظرہ و حفظ کی مفت تعلیم دی جاتی ہے۔ مدرسہ کا نام جامعہ کریمیہ چشتیہ ہے۔ مسجد کمبوہ سے بائیں مڑ جائیں تو کوچہ لوہاراں آجاتا ہے جس آگے ملحقہ بازار صدا کاراں ہے اور اس کے بعد کوچہ تیر گراں آجاتا ہے تو شاہ عالمی بازار سے جا ملتا ہے۔ مسجد صالح کمبوہ سے دائیں جانب چلے جائیں تو کوچہ تکیہ سادھواں کے بعد کوچہ چابک سواراں آجاتا ہے جہاں 1671ئ میں مسجد چینیاں والی تعمیر ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی حویلی میاں خان متصل ہے۔اس مسجد کا شمار بھی اندرون شہر کی قدیم مساجد میں ہوتا تھا۔ کنہیا لال قدیم مسجد چینیاں کے بارے میں اپنی تصنیف تاریخ لاہور میں لکھا ہے کہ ٴٴمسجد کا شرقی دروازہ نہایت عالی شان بنا ہوا تھا۔ بہ وقت زوالِ سلطنت ِ چغتائی جب گھر گھر ہو گیا تو مسجد کے دروازے کی سلیں گوجر سنگھ نے اکھڑوا لیں۔ پتھر کی دہلیز، جو سنگ مر مر کی تھی، سوبھا سنگھ نے نکلوا لی، دروازہ مسجد منہدم ہوگیا۔ پہلے دروازے کی اینٹیں ۔ پھر زمین کسی طامع امام مسجد نے فروخت کر دی اور مسجد سے داخل ہونے کے لئے شمالی دیوار توڑ کر چھوٹا سا دروازہ نکال لیا تھا۔ٴٴ مسجد کی شکستہ حالی کے سبب اس کی ازسر نو تعمیر کی گئی ۔ اس مسجد کے بانی شاہ جہاں بادشاہ کے فوجداری صوبہ لاہور نواب سرفراز خان المعروف افراز خان تھے۔ کچھ عرصہ قبل مسجد چینیاں والی کو دوبارہ گرا کر ایک مسجد تعمیر کی گئی ہے۔سکھوں کے عہد میں عربی خط کا استاد خلیفہ بگو نامہ موچی دروازے کے اندر محلہ کماں گراں میں رہتا تھا۔ مسجد صالح محمد کمبوہ سے اگر دائیں جانب مڑ جائےں تو امام بارگارہ سید اکبر علی شاہ آتا ہے اس کے ساتھ ہی آگے مشہور لال کھوہ کی عمارت کی بہت قدیمی عمارت ہے جس کی تعمیر نو 1977ئ میں مستری جاوید چنیوٹی نے ضیا الدین بٹ کی مالی معاونت سے کی۔لال کھو کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک کنواں ہوتا تھا جسے سکھ مذہب کے پیروکار مقصد سمجھتے تھے۔ لال کھو کی عمارت کے ساتھ بیری کا درخت ہے اور دیے جلانے کی مخصوص جگہ ہے جسے بیراں والی سرکار کہتے ہیں۔ لال کھوہ کی عمارت کے بالکل سامنے رفیق سویٹس کی دوکان ہے۔ حال ہی میں فضل سوئیٹس والوں کی دو منزلہ دوکان کی تعمیر کی ہے۔ مزید آگے جائیں چوک نواب پہنچ جاتے ہیں۔ یہ چوک نواب قزلباش کے نام سے منسوب ہے۔ قبل ازیں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جسے ختم کر دیا گیا۔ اندرون موچی دروازہ مغلیہ عہد اور بعدکے ادوار میں بھی نوابوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں عظیم الشان اور کشادہ حویلیوں کی تعمیر کی گئی۔ جو آج بھی اس دور کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں۔ کنہیا لال ہندی نے شہر قدیم کے اندر حوایلیوں کی کل تعداد چونسٹھ بتائی ہے جن میں سے سوائے چند ایک باقی سب کے محض نشانات باقی رہ گئے ہیں۔ ان حویلیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اولین وہ حویلیاں جو عہد مغلیاں کی یاد تھیں اور سکھوں کے قبضہ میں آئیں اور دوسرے حصے میں ان حوایلیوں کا تذکرہ ہوگا جو عہد سکھی میں ہی تعمیر ہوئیں اور ان کے معماروں نے حسب توفیق ظاہرہ خدوخال میں سکھ عہد کا تشخص اجاگر کرنے کی کمزور سے سعی کی۔ موچی دروازہ اس ضمن میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں عہد مغلیہ دور کی کئی یادگار حویلیاں آج بھی موجود ہیں۔ نواب سعد اللہ خان مغل بادشاہ شاہ جہان وزیر تھا ۔ اس نے اپنی رہائش کے لئے اندرون موچی دروازہ میں حویلی میاں خان تعمیر کی جس کے تین درجے تھے ایک حویلی زنانہ، دوسری مردانہ جس کو رنگ محل بھی کہتے ہیں اور تیسرا قلعی خانہ تھا۔ کنہا لال حویلی میاں خان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ٴٴجب یہاں سکھا شاہی زمانہ آیا اور اس حویلی کے وارث جا بجا نکل گئے تو لوگوں نے اسے گرانا شروع کر دیا جس کے ہاتھ میں کوئی عمارت آگئی، گرا کر لے گیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی عملداری میں وارث اس حوالی کے آمود ہوئے اور انہوں نے لاکھوں روپے کی عمارت کو کوڑیوں کے بھائو فروخت کردیا۔ٴٴ آج اس حویلی نے ایک محلے کی شکل اختیار کر لی ہے اور جہاں بیسیوں خاندان آباد ہیں۔ اندرون موچی دروازے میں نواب سعد اللہ خان کی دوسری حویلی ٴٴپتھراں والی حوایلیٴٴ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ اس حویلی میں کالا پتھر لگا ہوا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اس حویلی کو بارود کا کارخانہ قائم کر دیا۔ ایک روز کسی سبب آگ بھڑک اٹھی اور کئی ہزار من بارود نے پورے علاقے کو تباہ کردیا۔ حویلی کی دیواریں کئی کئی کوس دور مکانوں کی چھتوں پر جا گریں۔ اس سانحے میں تقریباً دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ آج اس حویلی کی عمارت کی جگہ گورنمنٹ سکول قائم ہے۔

تریخی اہمیت

سودھو

اندرون موچی دروازے میں قائم مبارک حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے۔ اس حوایلی کی بنیاد میربہادر علی، نادر علی اور بہار علی نے محمد شاہ بادشاہ کے دور میں رکھی تھی۔ جب حویلی کی تعمیر مکمل ہو گئی اور وہ اس حویلی میں آکر آباد ہوئے تو اسی مای بہادر علی کے گھر لڑکا پیدا ہوا۔ اس تقریب نیک سے یہ حویلی مبارک حویلی کہلائی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وقت جب شاہ شجاع الملک کابل سے بے دخل ہو کر آیا تو اسی حویلی میں قید کیا گیا اور اسی حویلی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے شاہ شجاع کو قید کر کے جواہر ٴکوہ نورٴ اس سے چھین لیا۔یہ حویلی سکھوں کے قبضہ میں رہی اور بعدازاں نواب علی رضا خان قزلباش کے ملکیت میں آگئی۔ کنہیا لال اس حویلی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نواب علی رضا قزلباش نے اپنی زندگی میں اس عمارت میں بہت سی تبدیلیاں کیں۔ مشرق کی جانب بڑا دروازہ نکلا اور بڑے بڑے دالان ، صحن اور عمارات بنوائی۔ نواب علی رضا خان قزلباش کے انتقال کے بعد ان کے جانشین نواب نوازش علی خان نے اس حویلی کی تعمیر و مرمت پر خصوصی توجہ دی۔ اس دور سے اس حویلی میں مجالس محرم منعقد کروانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ مبارک حویلی سے متصل حویلی نثار حیسن ہے۔ جہاں دس محرم کو لاہور میں تعزیہ، علم اور ذولجناح کا جلوس برآمد ہوتا ہے۔ قدیم دور سے ہی اندرون موچی دروازہ شعیان علیۿ کا مرکز ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس علاقے میں دو سو کے قریب امام بارگاہیں ہیں۔ ان حویلیوں کے علاوہ حویلی تجمل شاہ اور اندھی حویلی کے نام سے مشہور حویلی بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ شہر لاہور میں قدیم ادوار میں ولی اللہ اور برگذیدہ ہستیوں کے شہر کے دروازوں کے قریب اور اندرون شہر میں قیام کیا اور یہیں مدفون ہوئے۔ اس کے علاوہ تکیوں کا رواج بھی قائم تھا۔ جہاں لوگ فارغ اوقات میں وقت گزارتے تھے۔ اندرون موچی دروازے اور شاہ عالمی دروازے کے دمیان پیر ڈھل کا مزار ہے اسی نسبت سے یہ علاوہ ڈھل محلہ کہلاتا ہے۔

اندرون موچی دروازے میں تکیہ سادھواں بھی خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ تکیہ محلہ پیر گیلانیاں اور کوچہ چابک سواراں کے درمیان چینیاں والی مسجد کے قریب واقع ہے۔ اب یہاں تکیہ کے کوئی نشانات نہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ یہاں کمشیری سادھو برادری کا تکیہ ہوا کرتا تھا ۔ یہ لوگ تجارت کرتے یا لوگوں کا علاج معالجہ کیا کرتے تھے اور ان کے گھوڑے اسی تکیے میں باندھے جاتے تھے۔ نور محمد سادھو 1226ئ میں یہاں ایک مسجد تعمیر کردی اور اسی مسجد میں لاہور کے ایک بزرگ پیر غفار شاہ کا مزار بنایا گیا۔ بعد امیں ان کے جانشین پیر اشرف شاہ نے ان کا جسد خاکی یہاں سے میانی کے قبرستان میں منتقل کر دیا۔ محلہ ساھواں میں مزار گنج شہیداں بھی واقع ہے اس مزار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر اگرچہ ایک قبر ہے مگر اس کے نیچے ہزاروں شہید دفن ہیں۔

ثقافت تے صنعت تے حرفت دا مرکز

سودھو

موچی دروازے کے باہر چیمبرلین روڈ کے واقع تکیہ تاجے شاہ کا شمار لاہور کے قدیم ترین تکیوں میں ہوتا ہے۔ یہ کبھی بارونق تکیہ ہوا کرتا تھا۔ بٹیروں کی بازی کے علاوہ اکھاڑے میں پہلوانوں کی کشتی اس تکیے کا خاصا تھا۔ تکیہ تاجے شاہ کے قریب ہی چیمبرلین روڈ پر تکیہ مراثیاں واقع ہے۔ پرانے وقتوں میں یہاں موسیقاروں اور گلوکاروں کی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ بھارت اور پاکستان کے بے شمار معروف فن کار یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ یہاں استاد فتح علی خان، علی بخش خان، غلام علی خان، قادر بخش، پیارے خں جیسے فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ محرم الحرام میں بھی یہاں خصوصی مجالس منعقد ہوتی ہیں۔ پٹیالہ گھرانے کے عاشق علی خاں نے آخری عمر میں اپنے فن کا مظاہرہ یہیں کیا اور یہیں دفن ہوئے۔ موچی دروازے کا علاقہ قدیم دور سے ثقافت اور صنعت و حرفت کا مرکز رہا ہے۔یہاں کی تاریخی حویلیاں، کھانے، محلے اور بازار قدیم ادوار میں اس علاقے کی خوشحالی کی گواہی دیتے ہیں۔


ہور ویکھو

سودھو


بابرلے جوڑ

سودھو